Posts

Showing posts from June, 2018

کیا میں اس آدمی سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں

Image
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، اس حال میں کہ آپ کی رانیں یا پنڈلیاں مبارک کھلی ہوئی تھیں (اسی دوران) حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں لیٹے باتیں کررہے تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے ان کو بھی اجازت عطا فرما دی اور آپ اسی حالت میں باتیں کرتے رہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اجازت مانگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑوں کو سیدھا کرلیا، روای محمد کہتے ہیں کہ میں نہیں کہتا کہ یہ ایک دن کی بات ہے، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر داخل ہوئے اور باتیں کرتے رہے تو جب وہ سب حضرات نکل گئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو بھی آپ نے کچھ خیال نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پرواہ کی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آ...

اے صبا مصطفیٰ سے کہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں۔

Image
اے صبا مصطفیٰ سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں یاد کرتے ہیں تم کو شام وسحر دل ہمارے سلام کہتے ہیں اللہ اللہ حضور کی باتیں مرحبا رنگ ونور کی باتیں چاند جن کی بلائیں لیتا ہے اور ستارے سلام کہتے ہیں اللہ اللہ حضور کے گیسُو بھینی بھینی مہکتی وہ خوشبو جس سے معمور ہے فضا ہر سو وہ نظارے سلام کہتے ہیں جب محمد کا نام آتا ہے رحمتوں کا پیام آتا ہے لب ہمارے درود پڑھتے ہیں دل ہمارے سلام کہتے ہیں زائرِ کعبہ تو مدینہ میں پیارے آقا سے اتنا کہہ دیا آپ کی گردِ راہ کو آقا بے سہارے سلام کہتے ہیں ذکر تھا آخری مہینے کا تذکرہ چھڑِ گیا مدینے کا حاجیو مصطفیٰ سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں اے خدا کے حبیب پیارے رسول یہ ہمارا سلام کیجئے قبول آج محفل میں جتنے حاضر ہیں مل کے سارے سلام کہتے ہیں

کاش میں اس قبر میں دفن ہوتا۔ ایمان افروز واقعہ

Image
وہ ایک یتیم بچہ تھا اس کے چچا نے اس کی پرورش کی تھی جب وہ بچہ جوان ہوا تو چچانے اونٹ ، بکریاں غلام دے کر اس کی حیثیت مستحکم کردی تھی اس نے اسلام کے متعلق کچھ سنا اور دل میں توحید کا شوق پیدا ہوا لیکن چچا سے اس قدر ڈرتا تھا کہ اظہار اسلام نہ کرسکا. جب نبی کریم صلی اللہ علیہ واله وسلم فتح مکہ سے واپس گئے تو اس نے چچا سے کہا.. " مجھے برسوں انتظار کرتے گزر گئے کہ کب آپ کے دل میں اسلام کی تحریک پیدا ہوتی ہے اور آپ کب مسلمان ہوتے ہیں لیکن آپ کا حال وہی پہلے کا سا چلا آرہا ہے میں اپنی عمر پر زیادہ اعتماد نہیں کرسکتا.. مجھے اجازت دیجئے کہ میں مسلمان ہوجاؤں.. " چچا نے جواب دیا " دیکھ ! اگر تو محمد (صلی اللہ علیہ واله وسلم) کا دین قبول کرنا چاہتا ہے تو میں سب کچھ تجھ سے چھین لوں گا تیرے بدن پر چادر اور تہبند تک باقی نہ رہنے دوں گا.. " اس نے جواب دیا " چچاجان ! میں مسلمان ضرور ہوں گا اور محمد صلی اللہ علیہ واله وسلم کی اتباع قبول کروں گا شرک اور بت پرستی سے بیزار ہوچکا ہوں اب آپ کا جو منشاء ہے کریں اور جو کچھ میرے قبضہ میں مال وزر وغیرہ ہے سب کچھ سنبھال لیجئے میں جانتا...

عبدالرحمٰن جامیؒ کاعشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

Image
وہ نعت کہ جس کے شاعر پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں داخلے پر پابندی لگوادی! ‎براہ کرم یہ ضرور پڑھئے اور سوچئے کہ ہی نعتیہ کلام پڑھنے والے کو بارگاہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں کیسا مقام ملتا ہوگا! ‎ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﺎمی رحمتہ الله علیہ ‎ایک ﻧﻌﺖ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ‎ﺟﺐ ﺣﺞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ‎ﺗﻮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ‎ﺭﻭﺿﮧ ﺍﻗﺪﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻧﻌﺖ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﯿﮟ ﮔﮯ - ‎ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺣﺞ ﺑﯿﺖ الله ﺷﺮﯾﻒ ﮐﮯ لیئے ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺞ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﮐﺮﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﺣﺎﺿﺮﯼ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ‎نبی ﺍﮐﺮﻡ ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ کی ﺯﯾﺎﺭﺕ نصیب ﮨﻮئی ‎ﺁﭖ ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ‎ﻧﮯﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ‎ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﯾﻌنیﺟﺎمی رحمتہ الله علیہ ﮐﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ نہ ﺁﻧﮯ ﺩﯾﮟ . ‎حکم سُن کر ﺍﻣﯿﺮ ﻣﮑﮧ ﻧﮯ اعلان کروا کر مولانا ﺟﺎمی رحمتہ الله علیہ کی مدینہ میں داخلے پر پابندی لگا ﺩﯼ - ‎ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺟﺎمی رحمتہ الله علیہ بڑے پائے کے ﻋﺎﺷﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﮭﮯ - ‎ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻝ ﭘﺮ ﻋﺸﻖ نبی اکرم ‎ﺻلی ﺍلله ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺁﻟﮧ ﻭﺳﻠﻢﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﻏﺎﻟﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﭼُﮭﭗ ﮐﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ کی ﺟﺎﻧﺐ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ،ﮐﭼﮫ ﺳﯿﺮﺕ ﻧﮕﺎﺭ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ...

سلسلہ۔۔ علم کا بیان۔۔ صحیح البخاری۔ حدیث نمبر 59

Image
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ حدیث نمبر: 59 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي هِلَالُ بْنُ عَلِيٍّ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسٍ يُحَدِّثُ الْقَوْمَ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ:‏‏‏‏ سَمِعَ مَا قَالَ، ‏‏‏‏‏‏فَكَرِهَ مَا قَالَ، ‏‏‏‏‏‏وَقَالَ بَعْضُهُمْ:‏‏‏‏ بَلْ لَمْ يَسْمَعْ، ‏‏‏‏‏‏حَتَّى إِذَا قَضَى حَدِيثَهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَيْنَ أُرَاهُ السَّائِلُ عَنِ السَّاعَةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ هَا أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَإِذَا ضُيِّعَتِ الْأَمَانَةُ فَانْتَظِرِ السَّاعَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كَيْفَ إِضَاعَتُهَا ؟ قَ...