Posts

Showing posts from December, 2019

Allah Ne Mujhe Basheer O Nazeerr Bana Kar Bheja Hai.

Image
Allah Ne Mujhe Basheer O Nazeerr Bana Kar Bheja Hai. ایک مرتبہ کا واقعہ ہے کہ سید الانبیاء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طواف فرما رہے تھے. ایک اعرابی کو اپنے آگے طواف کرتے ہوئے پایا جس کی زبان پر "یاکریم یاکریم" کی صدا تھی۔ حضور اکرم نے بھی پیچھے سے یاکریم پڑھنا شروع کردیا۔ وہ اعرابی رُکن یمانی کی طرف جاتا تو پڑھتا یاکریم، سرکار دوعالم بھی پیچھے سے پڑھتے یاکریم۔ وہ اعرابی جس سمت بھی رخ کرتا اور پڑھتا یاکریم،، سرکار بھی اس کی آواز سے آواز ملاتےہوئے یاکریم پڑھتے۔........ ! Allah Ne Mujhe Basheer O Nazeerr Bana Kar Bheja Hai. اعرابی نے تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کیطرف دیکھا اور کہا کہ اے روشن چہرے والے !اے حسین قد والے ! اللہ کی قسم اگر آپ کا چہرہ اتنا روشن اور عمدہ قد نہ ہوتا تو آپ کی شکایت اپنے محبوب نبی کریم کی بارگاہ میں ضرور کرتا کہ آپ میرا مذاق اڑاتے ہیں. .......... ! سید دو عالم صلی اللہ علیہ و سلم مسکرائے اور فرمایا کہ کیا تو اپنے نبی کو پہچانتا ہے ؟ عرض کیا: نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم ایمان کیسے لائے؟ Allah Ne Mujhe Basheer O Naz...

Tik Tok Behayai Ka Samander In Urdu

Image
Tik Tok Behayai Ka Samander In Urdu ٹک ٹوک Tik Tok بے حیائی کا سمندر… ٹک ٹوک بے حیائی پھیلانے والا مقبول ترین اپلکیشن ہے جو دنیا کے ۱۵۰ ممالک میں ۵۰۰ ملین افراد اس ایپس کو استعمال کرتے ہیں، Tik Tok Behayai Ka Samander In Urdu اس اپلیکیشن کو بننے میں یہودیوں نے کافی وقت لگایا، چائنہ نے اس کو 2016 کے ستمبر مہینے میں لونچ کیا، دو سال میں ٹک ٹوک کو اتنی شہرت حاصل ہوئی جتنی ۵۰ سالوں میں فیس بک اور یوٹیوب کو حاصل نہیں ہوئی، دو سال میں ۵۰۰+ ملین اس کے یوزر ہیں، اور دنیا کے ۱۵۰ ممالک کے لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں، Tik Tok Behayai Ka Samander In Urdu اس ایپش کو لونچ کرنے کا مقصد صرف اور صرف اسلام کو نشانا بنانا تھا، آپ اس ایپس پر دیکھیں گے کہ یہودی مذہب کے علاوہ سارے مذاہب کا مذاق بنایا جاتا ہے، آپ کو یہودی مذہب کے خلاف ایک ویڈیو بھی اس ایپس پر نہیں ملےگی، پھر بھی لوگ اس بے حیائی کے سمندر میں غرق ہوتے جارہے ہیں، اور اپنے ہی ہاتھوں اپنے مذہب کا مذاق بنا رہے ہیں، Tik Tok Behayai Ka Samander In Urdu اس ایپس کو زیادہ تر قوم مسلم استعمال کر رہی ہے، اور قوم مسلم میں زیادہ تر ہماری خ...

حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو اسلام پردے سےباہر آیا

*حضرت عمرؓ مسلمان ہوئے تو اسلام پردے سےباہر آیا۔ حضرت عمر رضی الله عنہ کی زور آوری کا حال یہ تھا کہ کوئی ان سے مقابلے کی جرأت نہ کرتا تھا، اس لیے ان کے مسلمان ہوجانے سے مشرکین میں کہرام مچ گیا اور انہیں بڑی ذلت ورسوائی محسوس ہوئی، دوسری طرف ان کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بڑی عزت وقوت، شرف واعزاز اور مسرت وشادمانی حاصل ہوئی۔ ابن اسحاق نے اپنی سند سے حضرت عمر رضی الله عنہ کا بیان روایت کیا ہے کہ جب میں مسلمان ہوا تو میں نے سوچا کہ مکے کا کون شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا اور سخت ترین دشمن ہے، پھر میں نے جی ہی جی میں کہا: ''یہ ابو جہل ہے۔'' اس کے بعد میں نے اس کے گھر جاکر اس کا دروازہ کھٹکھٹایا، وہ باہر آیا، دیکھ کر بولا: "أھلًا وسھلًا (خوش آمدید،خوش آمدید) کیسے آنا ہوا۔؟" میں نے کہا: "تمہیں یہ بتانے آیا ہوں کہ میں اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لاچکا ہوں اور جو کچھ وہ لے کر آئے ہیں، اس کی تصدیق کرچکا ہوں۔" حضرت عمر رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ (یہ سنتے ہی ) اس نے میرے رخ پر دروازہ بند کر لیا اور ...

تمہارے لیے جنت کی بشارت ہے۔

نمازِ فجر کی جماعت میں جیسے ہی نبی رحمت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ و سلم سلام پھیرتے، حضرت ابو دجانہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر جلدی جلدی چل دیتے. باقی صحابہ کرام محفل نبوی میں کچھ دیر بیٹھے رہتے. جب تواتر سے یہ ہوا تو نبی رحمت کی توجہ کچھ صحابہ کرام نے ابو دجانہ کی طرف کرائی. اگلے دن سلام پھیرنے کے بعد محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم نے ابو دجانہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کو آواز دی؛ ابو دجانہ! ابو دجانہ نے کہا؛ لبیک یا رسول اللہ. نبی رحمت نے دریافت کیا؛ کیا بات ہے آج کل سلام پھیرتے ہی مسجد سے نکل جاتے ہو.؟ ابو دجانہ رضی اللہ عنہ نے کہا؛ اے اللہ کے نبی، کھجور کی فصل پک رہی ہے. میرے پڑوسی کے گھر میں لگے کھجور کے درخت کی کچھ شاخیں میرے گھر کے اوپر ہیں. رات میں پرندوں کی وجہ سے کچھ پکی کھجوریں میرے گھر کے صحن میں گر جاتی ہیں. میں اس لئے نماز کے بعد جلدی کرتا ہوں کہ بچوں کے جاگنے سے پہلے وہ کھجوریں سمیٹ کر پڑوسی کے صحن میں رکھ دوں. کہیں میرے بچے بچپن کی لاعلمی میں وہ مال نہ کھا لیں جو ان کیلئے جائز نہیں. نبی رحمت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کہا؛ ابودجانہ تمہیں بشارت ہو. اللہ رب العزت ت...

اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں میاں بیوی تھے غربت کا یہ عالم تھا کہ نماز کے لیے ایک ہی چادر تھی پھر بھی سارا دن اور رات عبادت میں مشغول رہتے تھے ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر گئے تو ان میاں بیوی نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے کہیے گا کے ہم بہت غریب ہیں کئ کئ دن تک کھانے پینے کو کچھ نہیں ملتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی بات کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میں نے ان کی عمر بہت زیادہ لکھی ہے اور رزق بہت کم اور وہ رزق میں ان کو تھوڑا تھوڑا کرکے دیتا ہوں کہ وہ ان کی عمر کے مطابق پورا ہو جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض پے اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ صبح ان کی ساری زندگی کا رزق ان کو دے دیا جائے گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کے ساری بات ان کو بتائ تو وہ دونوں ساری رات عبادت کرتے اور روتے رہے صبح ہوئی تو بہت سے اونٹ رزق سے لدے ان کے دروازے پر پہنچ گئے دونوں میاں بیوی نے سوچا اتنا رزق ھم کہاں لے کے جائیں گے کیوں نہ اس کا کھانا بنا کے سب کو کھلائیں ۔ صبح انھوں نے سب چیزوں کا کھانا بنایا اور بہت سے لوگوں کو کھانے پے بلای...

تاریخ کی تاقتور ترین معزرت

*تاریخ کی طاقت ور ترین معذرت:* جب حضرتِ ابوذرؓ نے بلالؓ کو کہا: "اے کالی کلوٹی ماں کے بیٹے! اب تو بھی میری غلطیاں نکالے گا؟! بلال یہ سن کر غصے اور افسوس سے بے قرار ہو کر یہ کہتے ہوے اٹھے ۔۔۔ خدا کی قسم! میں اسے ضرور بالضرور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے اٹھاؤں گا!! یہ سن کر اللہ کے رسول کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور آپ نے ارشاد فرمایا: ابوذر! کیا تم نے اسے ماں کی عار دلائی؟؟؟ تمھارے اندر کی جہالت اب تک نہ گئی!! اتنا سننا تھا کہ ابوذر یہ کہتے ہوے رونے لگے: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت کر دیجئے۔ اور پھر روتے ہوے مسجد سے نکلے ۔۔ باہر آکر اپنا رخسار مٹی پر رکھ دیا ۔۔ اور بلال سے مخاطب ہو کر کہنے لگے: "بلال! جب تک تم میرے رخسار کو اپنے پانْوں سے نہ روند دوگے، میں اسے مٹی سے نہ اٹھاؤں گا۔ یقیناً تم معزز و محترم ہو اور میں ذلیل و خوار!! یہ دیکھ کر بلال روتے ہوے آئے اور ابوذر سے قریب ہو کر ان کے رخسار کو چوم لیا۔ اور بے ساختہ گویا ہوے: خدائے پاک کی قسم! میں اس رخسار کو کیسے روند سکتا ہوں، جس نے ایک بار بھی خدا کو سجدہ کیا ہو۔ پھر دونوں کھڑے ہو کر گلے ملے ...