Posts

Showing posts from April, 2020

سخاوت کا انوکھا واقعہ

سخاوت کا واقعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں ایک شخص ملک شام سے سفر کرتا ہوا آیااور اپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ آپ امیر بھی ہیں یعنی مالدار بھی ہیں اور امیر بھی یعنی  مسلمانوں کے سربراہ بھی ہیں۔  عرض کرنے لگا حضور میرے اوپر قرضہ چڑھ گیا ہے میری مدد کریں ۔تو آپ اس کو اپنے گھر لے گئے شخص کہتا ہے کہ باہر سے دروازہ بہت خوبصورت تھا لیکن گھر پر ایک چارپائی بھی نہ  تھی کھجور کی چھال کی چٹائیاں بچھی ہوئی تھیں اور وہ بھی پھٹی ہوئی فرماتے ہیں سیدناصدیق ابوبکر(رضی اللہ تعالی عنہ)نے مجھے چٹائی پر بٹھا لیا اور مجھے کہنے لگے یار ایک عجیب بات نہ بتاؤں میں نے کہا بتائے تو عرض کرنے لگے تین دن سے میں نے ایک اناج کا دانہ بھی نہیں کھایا کھجور پر گزارا کر لیتا ہوں آج کل میرے حالات کچھ ٹھیک نہیں ہے توشخص کہنے لگا حضور میں اب پھر کیا کروں میں تو بہت دور سے امید لگا کر آیا تھا۔  تو فرمانے لگے تو عثمان غنی  کے پاس جا شخص کہنے لگا مجھےتو بہت سارے پیسے چاہیے ہیں۔تو آپ نے فرمایا تیری سوچ وہاں ختم ہوتی ہے جہاں سے  عثمان کی سخاوت شروع ہوتی تو جو سوچت...

گنبد خضراء میں ایک کھڑکی نما۔اور ایک روایت کی تحقيق

Image
                گنبد خضراء میں روشن دان کی حقيقت  گنبد شریف کے اوپر نظر آنے والی یہ چیز کوئی قبر نہیں بلکہ ایک روشن دان ہے جو اُم المؤمنین حضرتِ سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے کہنے پر بنوایا گیا تھا ۔اُس وقت باقاعدہ گنبد شریف نہیں تھا جیسے موجودہ شکل میں ہے بلکہ چھت تھی جس سے روشن دان نکالا گیا پھر بعد میں گنبد بنایا گیااور مختلف ادوار میں گنبد شریف میں تغیر وتبدل ہوتا رہا اور اس پر مختلف رنگ بھی کیئے جاتے رہے لیکن سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر روشن دان بنانے کی روایت کو ہمیشہ برقرار رکھا گیا ۔ یہ گنبد کیوں بنایا گیا؟ اس کا جائزہ لینے کے لئے یہ روایت ملاحظہ کیجئے: قُحِطَ أهل الْمَدِيْنَةِ قَحْطًا شَدِيْدًا فَشَکَوْا إِلَي عائشۃ ، فَقَالَتْ : انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صلي الله عليه وآله وسلم فَاجْعَلُوْا مِنْهُ کِوًي إلَي السَّمَاءِ، حَتَّي لَا يَکُوْنَ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ، قَالَ : فَفَعَلُوْا فَمُطِرْنَا مَطَرًا حَتَّي نَبَتَ الْعُشْبُ، وَسَمِنَتِ الْاِبِلُ حَتَّي تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ،...

اَسْمَآءُالْحُسْنٰى اورانکےفضائل

Image
99 اَسْمَآءُالْحُسْنٰى اورانکےفضائل (ہر وِرْدکےاول وآخرایک بار درودشریف پڑھ لیجیے) *1-یَارَحْمٰنُ:* جوکوئی صبح کی نمازکےبعد 298بارڑھےگاخداعزوجل اس پربہت رحم کرےگا۔ *2- یَارَحِيْمُ:* جوکوئی ہرروز500بارپڑھےگا دولت پائےگا اورمخلوق اس پرمہربان اورشفیق ہوگی۔ *3-یَاْمَلِكُ:* 90بارجوغریب روزانہ پڑھےتو غربت سے نجات پائےگا۔ *4ْ۔یَاقُدُّوسُ:* جوسفرکےدوران وردکرتارہے تو تھکن سےمحفوظ رہےگا۔ *5-یَاسَلَامُ:* 111بارپڑھ کر بیمارپردم کرنے سے شفاحاصل ہوگی۔ *6- یَامُؤْمِنُ:* جوبیمار115بارپڑھ کراپنےاوپر دم کرےتوتندرستی پائےگا۔ *7-یَامُهَيْمِنُ:* 29بار روزانہ پڑھنےوالا ہرآفت وبلا سے محفوظ رہے گا۔ *8-یَاعَزِيزُ :* حاکم یاافسرکےپاس جانےسے قبل 41بارپڑھ لیجیےوہ مہربان ہوجائیں گے۔ *9-یَاجَبَّارُ:* اس کامسلسل وردرکھنےوالا غیبت سےبچارہےگاـ *10ْـیَامُتَكَبِّرُ :* ١ـسونےسےپہلے21بارپڑھنےسے ڈراؤنےخواب نہیں آئیں گے۔ ٢ـزوجہ سےملاپ سےپہلے 10بار پڑھ لینےسے نیک بیٹےکاباپ بنے گا۔ *11-یَاخَالِقُ :* جو300بارپڑھےگاتواس کادشمن مغلوب ہوگا ۔ *12ْـ یَابَارِئُ :* ہرجمعہ کو10بار پڑھنےوالے کو بیٹا عطا ہ...

بیوی سے ملاپ کا شرعی طریقہ

Image
بیــــوی ســے ملنـے کـا شــــــــریعت میــں طـــریقہ اداب صحبـــــت تعلــــــق کا بیــــان *میاں بیوی کے تعلق سے کچھ ایسے  مسائل ہیں جن کا جاننا  ضروری ہے مگر وہ نہیں جانتے کیوں  کیونکی دینی کتاب ہم پڑھتے نہیں اور عالم سے پوچھ نے میں شرم آتی ہے مگر عجیب بات ہے مسئلہ پوچھنے میں تو ہمیں شرم اتی ہے مگر وہی غیرت اس وقت مر جاتی ہے جب دولہا اپنے دوستوں کو اور دلہن اپنی سہیلیوں  کو پوری رات کی کہانی سناتے ہیں خیر یہ میسج save  کر کے رکھیں اور اپنے دوستوں اور عزیزوں میں جنکی شادیاں ہوں انھے تحفے کے طور پر یہ میسج سینڈ کریں* ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ *حضرت امام غزالی رح فرماتے ہیں کی جماع یعنی صحبت کرنا جنّت کی لذتوں میں سے ایک لذت ہے* *حضرت جنید بغدادی رح  فرماتے ہیں کی انسان کو جماع کی ایسی ہی ضرورت ہے جیسے غزا کی کیونکہ بیوی کی طہارت کا سبب ہے* *(احیاء العلوم  جلد 2 ص: 29 )* *حدیث پاک میں آتا ہے کی جس طرح حرام صحبت پر گناہ ہے اسی طرح جائز صحبت پر نیکیاں ہیں* *( مسلم جلد 1_ ص : 324)* *ام المومنین...

صلوٰۃ التسبیح ( نماز تسبیح) کے فضائل و برکات

Image
(صلوٰۃ التسبیح ( نماز تسبیح ) احادیث میں اس نماز کے بھی بڑے فضائل وارد ہوئے ہیں بعض احادیث شریف میں آیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ اس نماز سے اگلے پچھلے نئے اور پرانے بھولے سے اور ارادے سے چھوٹے اور بڑے چھپے اور کھلے تمام گناہ بخش دیتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے چچا حضرت عباس سے ارشاد فرمایا کہ اگر آپ سے ہو سکے تو ہر روز اس نماز کو پڑھ لیا کریں اگر یہ نہ ہو سکے تو ہر مہینے میں ایک بار پھر اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر سال میں ایک بار اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو ساری زندگی میں ایک بار پڑھ لیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ترکیب نماز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نماز کے پڑھنے کی ترکیب یہ ہے چار رکعت نماز نفل کی نیت باندھ کر پہلے ثناء یعنی سبحانك اللهم پڑھے اس کے بعدسبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الہ الااللہ واللہ اکبر 15 بار پڑھے پھر تعوذ تسمیہ سورہ فاتحہ اور کوئی سورة پڑھ کر 10 بار یہی تسبیح پڑھے پھر رکوع کرے اور رکوع میں 10 بار پڑھے رکوع سے سر اٹھاے تسمیع اور تحمید کے بعد یہی تسبیح دس بار پڑھے پھر سجدے میں جائے اور دس بار پڑھے پھر سجدے سے اٹھ کر بیٹھے ہوئے دس بار پڑھے پھر دوسرا سجدہ...

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چل جاتا ہے

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چل جاتا ہے کسی زمانے میں ایک بادشاہ نے ایک قیدی کو کسی وجہ سے پھانسی کا حکم دیا اور جب قید خانے میں سے قیدی کو لایا گیا تو اس سے مرنے سے پہلے آخری خواہش پوچھی گئی قیدی نے کہا میں کیونکہ ایک اچھے گھرانے سے ہوں لہذا مجھے اعلی نسلی گھوڑوں سے پھانسی لگائی جائے (اس زمانے میں پھانسی کے تخت پر چڑھا کر گھوڑوں سے باندھ کر گھوڑوں کو دوڑیا جاتا تھا اس طرح پھانسی کی سزا ہوتی تھی)خیر گھوڑوں کو لایا گیا تو قیدی بول اٹھا ان میں ایک تو نسلی ہے پر ایک نسلی نہیں ہے لہذا میری آخری خواہش مکمل نہیں ہوئی بادشاہ نے گھوڑوں کے مالک کو بلوایا اور پوچھا کیا یہ بات سچ ہے؟ گھوڑوں کے مالک نے جواب دیا بلکل ایک بلکل اصلی نسل کا لیکن دوسرا خچر نسل کا شامل ہے بادشاہ نے حیران ہو کر قیدی سے پوچھا تمہیں کیسے یہ بات پتہ چلی کہ ایک گھوڑا نسلی ہے اور ایک نسلی نہیں قیدی نے کہا جو نسلی ہے وہ بڑے آرام سے کھڑا تھا جبکہ جو خچر نسل کا ہے وہ گدھے کی طرح کبھی ادھر ٹانگ مار کبھی منہ پھیر کبھی اچھل کر کبھی بیٹھ جائے، جس سے مجھے علم ہوا۔ بادشاہ قیدی کی دانائی اور سوچ سے بڑا متاثر ہوا اور قیدی کی پھانسی منس...

اے سبز گنبد والے ﷺ منظور دُعا کرنا

اے سبز گنبد والے ﷺ منظور دُعا کرنا جب وقت نزع آئے آقا ﷺ دیدار عطاء کرنا اے نورِ خُدا آکر آنکھوں میں سما جانا یا در پہ بُلا لینا یا خواب میں آ جانا اے پردہ نشین دل کے پردوں میں رہا کرنا جب وقت نزع آئے آقا ﷺ دیدار عطاء کرنا میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا امداد میری کرنے آ جانا رسول ﷺ اللّٰه روشن میری تربت کو اے نورِ خُدا کرنا جب وقت نزع آئے آقا ﷺ دیدار عطاء کرنا مجرم ہوں زمانے کا محشر میں بھرم رکھنا رسواء زمانہ ہوں دوزخ سے بچا لینا منظور دعا میری اے حبیب خدا کرنا جب وقت نزع آئے آقا ﷺ دیدار عطاء کرنا چہرے سے ضیاء پائی سب چاند ستاروں نے اس در سے شفاء پائی دکھ درد کے ماروں نے آتا ہے انہیں صابر ہر دکھ کی دعا کرنا جب وقت نزع آئے آقا ﷺ دیدار عطاء کرنا آمیــــــــــــن ثم آمیــــــــــن يا رب العالمـــــــــین

حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنھا سے شادی

حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے شادی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نکاح میں آنے کی فضیلت حاصل ہوئی، حضرت سودہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا نکاح چونکہ قریب قریب ایک ہی زمانہ میں ہوا تھا، اس لئے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے؟ ابن اسحٰق کی روایت ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو تقدم حاصل ہے، جبکہ علامہ ابن کثیر نے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں لکھا ہے کہ: رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی سب سے پہلے نکاح کیا، تاہم جمہور کے مطابق ازواجِ مطہرات میں یہ فضیلت حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کو حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد سب سے پہلے وہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں۔ حضرت سودہ قبیلہ عامر بن لوئی سے تھیں، جس کا سلسلہ مدینہ کے خاندان بنو نجّار سے ملتا ہے، جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردادا ہاشم نے شادی کی تھی، وہ ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہو چکی تھیں...