Posts

Showing posts from July, 2018

انوکھی دعوت

Image
ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور!!! اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ : '' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ '' ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : '' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ '' ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : '' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ '' ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣ...

سخی گھرانہ

Image
ایک دن نماز عصر کے بعد رسول خدا ﷺ،اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا، بوسیدہ کپڑا پہنے ہوئے کمزوری کی حالت میں وارد ہوااس کے آثار سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوک کی حالت میں کافی طولانی راستہ طے کر کے آیا ہے۔اس نے عرض کیا:میں ایک پریشان حال انسان ہوں آپ مجھے بھوک،عریانی اور مشکلات سے نجات دلائیے۔رسول خدا نے فرمایا: فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک ایسے شخص کی رہنمائی کرتا ہوں جو تیری حاجتوں کو پورا کردے گا اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس شخص کے مانندکہ جس نے خوداس کام کو انجام دیاہو۔اس کے بعدآنحضرت ﷺنے جناب بلالؓ کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو درِ فاطمہؓ پر لے جائیں۔جب وہ بوڑھا حضرت علیؓ کے بیت الشرف پرپہنچا تو اس نے اس طرح سلام کیا: ’’السلام علیکم یا اہل بیت النبوۃ‘‘اے خاندان نبوت آپ پر سلام ہو۔آپ نے سلام کا جواب دیااوردریافت فرمایا: تم کون ہو؟اس نے کہا: میں ایک مرد عرب ہوں ،رسول خدا ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا تھا۔انہوں نےمجھےآپؓ کے دروازہ پربھیج دیا۔وہ تیسرادن تھاجسے حضرت علیؓ بھوک کی حالت میں گزاررہےتھےاوررسول خدا ﷺبھی اس سےآگاہ تھے،بنت رسول...

تلاوتِ قرآن کریم

Image
تلاوت قرآن: ایک پہاڑی علاقے میں ایک بزرگ اپنے نوجوان پوتے کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ ہر روز صبح سویرے قرآن کی تلاوت کیا کرتے۔ پوتا بھی ہمیشہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتا۔ ایک دن پوتا کہنے لگا: دادا جان! میں بھی آپ کی طرح قرآن پاک پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اور جو سمجھ آئے، جیسے ہی قرآن بند کروں، بھول جاتا ہوں۔ ایسے میں قرآن پڑھنے سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ دادا جی نے خاموشی سے کوئلوں والی ٹوکری میں سے کوئلے نکال کر انگیٹھی میں ڈالے۔ پھر ٹوکری پوتے کو دے کر کہا: جا پہاڑ کے نیچے بہتی ندی سے مجھے پانی کی ٹوکری بھر کر لا دے. لڑکے نے دادا جی کی بات پر عمل کیا. لیکن واپس پہنچنے تک سارا پانی ٹوکری کے سوراخوں میں سے بہہ گیا۔ دادا جی مسکرائے اور کہا: تم اس دفعہ اور زیادہ تیز قدم اٹھانا. یہ کہہ کر پوتے کو واپس بھیج دیا. لیکن اس بار وہ بالٹی میں پانی لے آیا۔ دادا جی نے کہا: مجھے بالٹی نہیں ٹوکری میں پانی چاہیے۔ تم ٹھیک سے کوشش نہیں کر رہے. اسے پھر نیچے بھیج کر وہ دروازے میں کھڑے دیکھنے لگے کہ پوتا کتنی سعی کرتا ہے۔ لڑکے کو علم تھا کہ سوراخوں بھری ٹوکری میں پانی بھرنا نا...

آتش پرست مسلمان ہو گیا

Image
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﺎﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﺗﻬﺎ - . ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ . ' ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﮐﮧ ﺁﮒ ﮐﮧ ﺩﻫﻮﺋﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺳﯿﺎﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ - ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ . ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﻮﻧﮯ ﺁﮒ ﺍﻭﺭ ﺩﻫﻮﺋﯿﮟ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﯽ ﮨﮯ . ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽتجھ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﺮﮮ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻣﺎﻧﻊ ﮨﯿﮟ - ‏( . 1 ‏) ﺗﻢ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺳﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ - ‏( . 2 ‏) ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﺑﺮﺣﻖ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ - ‏( . 3 ‏) ﯾﮧ ﺳﻤﺠﺘﻬﮯ ﻫﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮ - ‏( ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺷﻨﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﮯ - ﺍﮔﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ - ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺁﮒ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ - ﺍﮔﺮ ﺫﺭﺍ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺩﮮ ﮔﯽ . . ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ 70 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺎ ﺫﺭﺍ ﺑﻬﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ...

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم

Image
ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮧ ﺗﮏ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ :‘ ﺑﻼﻝ ! ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔۔؟ "’’ ﺑﻼﻝؓ ! ﮐﯿﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍٓؤ ؟ ‘ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝؓ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺯﺧﻢ ﮨﺮﮮ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ۔ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﭘﺮ ﺩﮬﺎﮌﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭﺗﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻨﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﮐﻮ ﭼﻤﭩﺎ ﭼﻤﭩﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ۔ ﺍﮨﻞِ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، " ﺍﮮ ﺑﻼﻝ ! ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﮟ، ﺳﺮﮐﺎﺭﷺ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ۔۔؟ " ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﯽ ﮐﮧ، " ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔۔ !" ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﻨﯿﻦ ﮐﺮﯾﻤﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﮩﻠﻮﺍﯾﺎ، ﺍﺏ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔۔ !! ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻨﯿﻦؓ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻞ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﺍٓﭖ ﺩﯾﮟ، ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝؓ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺑﻼﻝؓ ﺍٓﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ، ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺍُﻣﮉﺍٓﯾﺎ … ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ آﺫﺍﻥ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝؓ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺑﭙﺎ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐ...

محمد ہمارے بڑی شان والے

Image
وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ "میری بیویوں کو جمع کرو۔" تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: "کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟" سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔ پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟ چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ ع...

بڑھیا کی عروج سے زوال کی درد بھری کہانی

Image
بڑھیا کی عروج سے زوال کی درد بھری کہانی قاضی کوفہ محمد بن غسان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ'' عیدِ قربان کے دن میں اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے وہاں پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک بڑھیا کو دیکھا۔ مجھے اس کا اندازِ گفتگو بہت اچھا لگا۔ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا: ''یہ عورت کون ہے؟'' فرمایا؛ ''یہ تمہاری خالہ عانیہ ہے جو ہارون رشید کے وزیر جعفر بن یحیٰ کی ماں ہے۔'' میں نے انہیں سلام کیا، ان کی خیریت دریافت کی پھر پوچھا کہ ''آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی؟'' تو انہوں نے فرمایا: '' بیٹا ہم نے غفلت میں زندگی گزاری اور وقت ضائع کرنے میں لگے رہے تو زمانہ ہم سے روٹھ گیا۔'' میں نے کہا: ''اپنی شان وشوکت کا کوئی واقعہ سنائيے۔'' کہنے لگیں: ''ضرور، ایک چھوٹا سا واقعہ سناتی ہوں اس سے میری شان وشوکت کا اندازہ لگا لینا، آج سے تین سال پہلے عیدِ قربان کے موقع پر میرے پاس چار سو اوڑھنیاں تھیں۔ میرے بیٹے نے رسم کے طور پر میرے پاس ایک ہزار چار سو بکروں کے سر اور تین سو بیلوں کے سر بھیجے، زیورات اور ل...

عالم کا کردار

Image
عالم کا کردار وعبدالله بن رجاء الغداني رحمه الله کا بیان ہے: حضرت سیدنا امام ابو حنیفہ رحمه الله کا کوفہ میں موچی پڑوسی تھا۔ سارا دن کام کرتا ، رات آتی تو گوشت یا مچھلی لے کر گھر واپسی کی راہ لیتا ، اس کو آ کے فرائی کرتا ، شراب کےساتھ اسے نوش جان کرتا ، جب خوب چڑھ جاتی تو گانا شروع کر دیتا: أضاعوني وأيَّ فتًى أضاعوا ليومِ كريهةٍ وسدادِ ثغرِ مجھے ان لوگوں نے ضائع کر دیا اور کتنا ہی مثالی گبھرو ضائع کر بیٹھے ہیں ایسا جوان جو کسی بھی برے دن کام آ سکتا یا سرحدوں کی حفاظت کرتا نیند آنے تک اس کا یہی مشغلہ ہوتا۔ حضرت امام صاحب اپنی نماز میں مشغول رہتے اور یہ شور بھی آپ کو سنائی دیتا رہتا ۔ ہوا ایسا کہ ایک رات پولیس وہاں سے گذر رہی تھی ۔ انہوں نے پکڑ جیل میں ڈال دیا ادھر سیدنا أبو حنيفہ کو اس کی آواز نہ آئی ، دریافت کرنے پر سارا معاملہ پتہ چلا تو اپنی خچر پر سوار ہو کر امیر کوفہ کی طرف تشریف لے گئے ، امیر کو آپ کی تشریف آوری کی اطلاع دی گئی تو اس نے کہا ۔ خبردار امام کو سواری سے نہ اترنے دینا ، ان کی سواری کے قدم میرے اس قالین کو روندیں ۔ انتہائی اکرام و تعظیم کے بعد تشریف آوری کا س...

کیا آپ سونے چاندی سے بنی جنت کی قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں؟

Image
کیا آپ سونے چاندی سے بنی جنت کی قیمت ادا کرنا چاہتے ہیں۔ تو ضرور پڑھیں حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے ایک دفعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مسکرا رہے ہیں. . . تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی چیز مسکراہٹ کا سبب ہوئی ؟ . فرمایا:" میرے دو اُمتی اللہ تعالٰی کے سامنےگھٹنےٹیک کر کھڑے ہو گئے ہیں .ایک کہتا ہے کہ یا اللہ اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے میں بدلہ چاہتا ہوں. اللہ پاک اس ظالم سے فرماتا ہے کہ اپنے ظلم کا بدلہ ادا کرو. . ظالم جواب دیتا ہے یا رب ! اب میری کوئی نیکی باقی نہیں رہی کہ ظلم کے بدلے میں اسے دے دوں. تو وہ مظلوم کہتا ہے کہ اے اللہ میرے گناہوں کا بوجھ اس پر لاد دے . " یہ کہتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آبدیدہ ہوگئے اور فرمانے لگے : " وہ بڑا ہی سخت دن ہوگا. لوگ اس بات کے حاجت مند ہونگے کہ اپنے گناہوں کا بوجھ کسی اور کے سر دھر دیں. اب اللہ پاک طالب انتقام(مظلوم) سے فرمائے گا : نظر اٹھا کر جنت کی طرف دیکھ . . وہ سر اٹھائے گا ,جنت کی طرف دیکھے گا اور عرض کرے گا: یا رب! اس میں تو چان...

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور میں ایک بہت برا انسان شہر میں رہتا تھا۔۔۔

Image
نماز جنازہ" حضرت موسٰی علیہ السلام کے دور میں ایک بہت برا انسان شہر میں رہتا تھا وہ اس قدر برائیوں میں گھرا ہوا تھا کہ لوگوں نے تنگ آکر اس کو شہر سے ہی نکال دیا، اس کی باقی زندگی جنگل میں گزری جب وہ مرنے لگا تو اس نے اپنے دائیں طرف دیکھا اور پھر بائیں طرف دیکھاپھر آسمان کی طرف دیکھ کر اللہ کو پکارا اورکہا کہ آج جب میں مرنے لگا ہوں میرے پاس کوئی انسان موجود نہیں صرف ایک تیری ذات ہے میں نے ساری زندگی گناہ کئے لوگوں کو تکلیف بھی دی میں اس پر بہت شرمندہ ہوں مجھے بہت ندامت ہے میں تجھ سے معافی کا طلبگار ہوں اور پرنم آنکھوں کے ساتھ اس نے دم توڑ دیا ،موسٰی علیہ السلام کے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور کہا کہ اللہ نے پیغام بھیجا ہے کہ جنگل میں ایک شخص کی لاش پڑی ہے اس کا کفن دفن کا بندوبست کریں اور اس کے جنازے میں جو شریک ہوگا اس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے جب اس شخص کی میت لائی گئی تو لوگوں نے کہا کہ اتنے برے شخص کی نماز جنازہ پڑھنے سے ہمارے گناہ کیوں کر معاف ہو سکتے ہیں موسٰی علیہ سلام کوہ طور کی پہاڑی پر گئے اور اللہ سے سوال کیا تو اللہ نے جواب دیا کہ موسی اس بندے نے اپنے رب سے سچے دل...

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دودھ کا پیالہ

Image
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺍﻭﺭ ایک  ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺩﻭﺩﮪ : ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﺑﮭﻮﮎ ﺳﮯ ﻧﮉﮬﺎﻝ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﺌﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﺑﮑﺮ ﺻﺪﯾﻖ ﺭﺿﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﺗﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﮐﻮ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﻣﻘﺼﺪ ﯾﮧ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﻭﮦ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﻟﮯ ﺟﺎ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﻼﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﻣﮕﺮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺁﯾﺖ ﺑﺘﺎ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﺍﺱ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﻏﺮﺽ ﻭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻭﮦ ﮐﭽﮫ ﮐﮭﻼ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ ﻣﮕﺮ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺁﯾﺖ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﭼﻞ ﺩﯾﺌﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﻮﺭِ ﺍﻗﺪﺱ ﺻﻠﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮦ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﺪﺍﺩﺍﺩ ﺑﺼﯿﺮﺕ ﺳﮯ ﺟﺎﻥ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ” ﯾﮧ ﺑﮭﻮﮐﮯ ﮨﯿﮟ ” ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﭘﮑﺎﺭﺍ ،ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮ ﻟﺌﮯ ﺟﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﺷﺎنہ ﻧﺒﻮﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺩﮪ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﻼﯾﺎ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺩﻭﺩﮪ ﮐﺎ ﯾﮧ ﮨﺪﯾﮧ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﺁﭖ ﺻﻠﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺎﺋﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺻﺤﺎﺏِ ﺻﻔﮧ ﮐﻮ ﺑﻼ ﻻﺅ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮﮨﺮﯾﺮﮦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟ...

ایک عورت کا صبر۔۔۔

Image
ایک عورت کا صبر _____!! ایک عورت کو اللّٰہ ہر بار اولادِ نرینہ سے نوازتا مگر چند ماہ بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا۔ لیکن وہ عورت ہر بار صبر کرتی اور اللّٰہ کی حکمت سے راضی رہتی تھی۔ مگر اُس کے صبر کا امتحان طویل ہوتا گیا اور اسی طرح ایک کے بعد ایک اُس عورت کے بیس بچّے فوت ہوئے۔ آخری بچّے کے فوت ہونے پر اُس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا۔ وہ آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اُٹھی اور اپنے خالقِ حقیقی کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی اور اپنا غم بیان کرتے ہوئے کہا "اے کون و مکاں کے مالک.! تیری اِس گناہگار بندی سے کیا تقصیر ہوئی کہ سال میں نو مہینے خونِ جگر دے کر اِس بچّے کی تکلیف اُٹھاتی ہوں اور جب اُمید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اُس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔ آئے دن میرا دل غم کے حول کا شکار رہتا ہے کہ میرا بچّہ پروان چڑھے گا بھی کہ نہیں۔ اے دُکھی دلوں کے بھید جاننے والے.! مجھ بےنوا پر اپنا لطف و کرم فرما دے۔" روتے روتے اُسے اونگھ آ گئی۔ خواب میں ایک شگفتہ پُربہار باغ دیکھا جس میں وہ سیر کر رہی تھی کہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ایک محل نظر آیا جس کے اوپر اُس عورت کا نام لکھا ہ...

قرآن پاک کا معجزہ۔ قاری عبد الباسط کی زبانی

Image
کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے؟ ایک مرتبہ کسی نے قاری عبدالباسط سے پوچھا، قاری صاحب! آپ اتنا مزے کا قرآن مجید پڑھتے ہیں، آپ نے بھی کبھی قرآن مجید کا کوئی معجزہ دیکھاہے ؟ وہ کہنے لگے، میں نے قرآن کے سینکڑوں معجزے آنکھوں سے دیکھے ہیں۔ انہوں نے کہا ، کوئی ایک تو سنا دیجئے۔ تو یہ واقعہ انہوں نے خود سنایا۔قاری صاحب فرمانے لگے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب جمال عبدالناصر مصر کا صدر تھا۔ اس نے رشیا)روس( کا سرکاری دورہ کیا۔ وہاں پر کمیونسٹ حکومت تھی۔ اس وقت کمیونزم کا طوطی بولتا تھا۔ دنیا اس سرخ انقلاب سےجانتی تھی۔جمال عبدالناصر ماسکو پہنچا۔ اس نے وہاں جاکر اپنے ملکی امور کے بارے میں کچھ ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے بعد انہوں نے تھوڑا سا وقت تبادلہ خیالات کے لئے رکھا ہوا تھا۔ اس وقت وہ آپس میں گپیں مارنے کے لئے بیٹھ گئے۔ جب آپس میں گپیں مارنے لگے تو ان کیمونسٹوں نے کہا ،جمال عبدالناصر! تم کیا مسلمان بنے پھرتے ہو، تم ہماری سرخ کتاب کو سنبھالو،جو کیمونزم کا بنیادی ماخذ تھا، تم بھی کمیونسٹ بن جاؤ، ہم تمہارے ملک میں ٹیکنالوجی کو روشناس کرادیں گے، تمہارے ملک میں سائنسی ترقی بہت زیادہ ہو جائے گی او...

غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید

Image
غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہیدؒ کہا جاتا ہے غازی عامر عبدالرحمن چیمہ کا جنازہ لوگوں کی انگلیوں پر تھا کیونکہ لوگ اتنے بے تاب تھے اس جنازہ کو کندھا دینے کے لئے اور قافلے در قافلے اس جنازہ میں شرکت کے لئے آرہے تھے حالانکہ ان کا اس میت سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا آخر یہ مسلمان کون تھا کیا آپ میں سے کوئی جانتا ہے غازی عامر عبدالرحمن چیمہ رحمۃ اللہ علیہ کون تھے ؟ عامر چیمہ 4دسمبر 1977 کی صبح اپنے ننھیال حافظ آباد میں پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ نے آپ کا نام عامر جبکہ والد نے عبد الرحمٰن تجویزکیا۔ چنانچہ دونوں ناموں کو ملا کرعامرعبدالرحمٰن رکھ دیا گیا۔ لیکن مختصر نام عامر مشہور ہوا۔ عامر چیمہ اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے ۔ان کی تین بہنیں ہیں ۔ آپ نے 1993ء میں جامع ہائی اسکول ڈھوک کشمیریاں راولپنڈی سے میٹرک کیا۔ 1996 ء میں ایف جی سر سید کالج مال روڈ راوالپنڈی سے ایف ایس سی کی۔ نیشنل کالج آف انجینرٔنگ فیصل آباد سے بی ایس سی ٹیکسٹائل انجینرٔنگ کی ڈگری حاصل کی۔ کچھ عرصہ یونیورسٹی آف منیجمنٹ اینڈ ٹیکنالوجی لاہورمیں لیکچرار رہے۔رائے ونڈ کی ایک ٹیکسٹائل مل اور الکریم ٹیکسٹائل ملز کراچی میں کچھ...