حضور مسکراتے رہے اور دیہاتی خوش ہورہا
ایک غریب دیہاتی، بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں، انگوروں سے بھری ایک ٹوکری کا تحفہ پیش کرنے کیلئے حاضر ہوا۔ کملی والے آقا نے ٹوکری لی، اور انگور کھانے شروع کیئے۔ پہلا دانہ تناول فرمایا اور مُسکرائے۔ اُس کے بعد دوسرا دانہ کھایا اور پھر مُسکرائے۔ اور وہ بیچارہ غریب دیہاتی،،،، آپ کو مسکراتا دیکھ دیکھ کر خوشی سے نہال۔۔۔ صحابہ سارے منتظر، خلاف عادت کام جو ہو رہا ہے کہ ہدیہ آیا ہے اور انہیں حصہ نہیں مل رہا۔۔۔ سرکار علیہ السلام، انگوروں کا ایک ایک دانہ کر کے کھا رہے ہیں اور مسکراتے جا رہے ہیں۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔۔۔۔ آپ نے انگوروں سے بھری پوری رکابی ختم کر دی۔۔ اور آج صحابہ سارے متعجب!!!! غریب دیہاتی کی تو عید ہو گئی تھی۔۔۔۔ خوشی سے دیوانہ۔۔۔ خالی ٹوکری لیئے واپس چلا گیا۔ صحابہ نہ رہ سکے۔۔۔۔ ایک نے پوچھ ہی لیا، یا رسول اللہ؛ آج تو آپ نے ہمیں شامل ہی نہیں کیا؟ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا؛ تم لوگوں نے دیکھی تھی اُس غریب کی خوشی؟ میں نے جب انگور چکھے ۔۔۔۔ تو پتہ چلا کہ کھٹے ہیں۔ مجھے لگا کہ اگر تمہارے ساتھ یہ تقسیم کرتا ہوں تو ہو سکتا ...