بڑھیا کی عروج سے زوال کی درد بھری کہانی
بڑھیا کی عروج سے زوال کی درد بھری کہانی
قاضی کوفہ محمد بن غسان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ'' عیدِ قربان کے دن میں اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے وہاں پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک بڑھیا کو دیکھا۔ مجھے اس کا اندازِ گفتگو بہت اچھا لگا۔ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا: ''یہ عورت کون ہے؟'' فرمایا؛ ''یہ تمہاری خالہ عانیہ ہے جو ہارون رشید کے وزیر جعفر بن یحیٰ کی ماں ہے۔''
میں نے انہیں سلام کیا، ان کی خیریت دریافت کی پھر پوچھا کہ ''آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی؟'' تو انہوں نے فرمایا: '' بیٹا ہم نے غفلت میں زندگی گزاری اور وقت ضائع کرنے میں لگے رہے تو زمانہ ہم سے روٹھ گیا۔''
میں نے کہا: ''اپنی شان وشوکت کا کوئی واقعہ سنائيے۔'' کہنے لگیں: ''ضرور، ایک چھوٹا سا واقعہ سناتی ہوں اس سے میری شان وشوکت کا اندازہ لگا لینا، آج سے تین سال پہلے عیدِ قربان کے موقع پر میرے پاس چار سو اوڑھنیاں تھیں۔ میرے بیٹے نے رسم کے طور پر میرے پاس ایک ہزار چار سو بکروں کے سر اور تین سو بیلوں کے سر بھیجے، زیورات اور لباس وغیرہ ان کے علاوہ تھے۔ اس کے باوجود میرا خیال تھا کہ میرا بیٹا میرا نافرمان ہے اور آج یہ حال ہے کہ میں تمہارے پاس دو بکرو ں کی کھالیں لینے آئی ہوں تا کہ ان کا لباس بناؤں۔''
قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ ''ان کی داستانِ زوال سن کر میں بہت رنجیدہ ہوا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، اس وقت میرے پاس جو دینار تھے میں نے انہیں تحفۃً دے دئیے ۔ ''
دیکھ لیجئے دنیا کس طر ح منہ موڑتی ہے اور اس کی نعمتیں کس طرح فنا ہوجاتی ہیں، ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے فریب سے بڑھ کر کوئی فریب نہیں، اور جو اس کی برائی دیکھ کر اس سے کنارہ کشی کر لے وہ سعادت مند ہے، ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے مصائب کثیر ہیں، ان میں سے ایک مصیبت بندے کے مال اور اولاد میں آتی ہے اور دوسری بندے کو اسلام سے دور کر کے کافر بنا دیتی ہے۔
ہم اللّٰه عزوجل سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔۔۔ آمین۔
قاضی کوفہ محمد بن غسان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ'' عیدِ قربان کے دن میں اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے وہاں پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک بڑھیا کو دیکھا۔ مجھے اس کا اندازِ گفتگو بہت اچھا لگا۔ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا: ''یہ عورت کون ہے؟'' فرمایا؛ ''یہ تمہاری خالہ عانیہ ہے جو ہارون رشید کے وزیر جعفر بن یحیٰ کی ماں ہے۔''
میں نے انہیں سلام کیا، ان کی خیریت دریافت کی پھر پوچھا کہ ''آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی؟'' تو انہوں نے فرمایا: '' بیٹا ہم نے غفلت میں زندگی گزاری اور وقت ضائع کرنے میں لگے رہے تو زمانہ ہم سے روٹھ گیا۔''
میں نے کہا: ''اپنی شان وشوکت کا کوئی واقعہ سنائيے۔'' کہنے لگیں: ''ضرور، ایک چھوٹا سا واقعہ سناتی ہوں اس سے میری شان وشوکت کا اندازہ لگا لینا، آج سے تین سال پہلے عیدِ قربان کے موقع پر میرے پاس چار سو اوڑھنیاں تھیں۔ میرے بیٹے نے رسم کے طور پر میرے پاس ایک ہزار چار سو بکروں کے سر اور تین سو بیلوں کے سر بھیجے، زیورات اور لباس وغیرہ ان کے علاوہ تھے۔ اس کے باوجود میرا خیال تھا کہ میرا بیٹا میرا نافرمان ہے اور آج یہ حال ہے کہ میں تمہارے پاس دو بکرو ں کی کھالیں لینے آئی ہوں تا کہ ان کا لباس بناؤں۔''
قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ ''ان کی داستانِ زوال سن کر میں بہت رنجیدہ ہوا اور میری آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے، اس وقت میرے پاس جو دینار تھے میں نے انہیں تحفۃً دے دئیے ۔ ''
دیکھ لیجئے دنیا کس طر ح منہ موڑتی ہے اور اس کی نعمتیں کس طرح فنا ہوجاتی ہیں، ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے فریب سے بڑھ کر کوئی فریب نہیں، اور جو اس کی برائی دیکھ کر اس سے کنارہ کشی کر لے وہ سعادت مند ہے، ۔۔۔۔۔۔ دنیا کے مصائب کثیر ہیں، ان میں سے ایک مصیبت بندے کے مال اور اولاد میں آتی ہے اور دوسری بندے کو اسلام سے دور کر کے کافر بنا دیتی ہے۔
ہم اللّٰه عزوجل سے عافیت کا سوال کرتے ہیں ۔۔۔ آمین۔

سبحان اللہ
ReplyDeleteMashallah
ReplyDelete