اللہ تعالیٰ کے ساتھ تجارت
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں میاں بیوی تھے غربت کا یہ عالم تھا کہ نماز کے لیے ایک ہی چادر تھی پھر بھی سارا دن اور رات عبادت میں مشغول رہتے تھے ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام جب کوہ طور پر گئے تو ان میاں بیوی نے کہا کہ اللّٰہ تعالیٰ سے کہیے گا کے ہم بہت غریب ہیں کئ کئ دن تک کھانے پینے کو کچھ نہیں ملتا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی بات کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میں نے ان کی عمر بہت زیادہ لکھی ہے اور رزق بہت کم اور وہ رزق میں ان کو تھوڑا تھوڑا کرکے دیتا ہوں کہ وہ ان کی عمر کے مطابق پورا ہو جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض پے اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ صبح ان کی ساری زندگی کا رزق ان کو دے دیا جائے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کے ساری بات ان کو بتائ تو
وہ دونوں ساری رات عبادت کرتے اور روتے رہے صبح ہوئی تو بہت سے اونٹ رزق سے لدے ان کے دروازے پر پہنچ گئے دونوں میاں بیوی نے سوچا اتنا رزق ھم کہاں لے کے جائیں گے کیوں نہ اس کا کھانا بنا کے سب کو کھلائیں ۔
صبح انھوں نے سب چیزوں کا کھانا بنایا اور بہت سے لوگوں کو کھانے پے بلایا وہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دعوت دینے گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت حیران ہوئے ۔
چنانچہ اس شخص نے سب کی دعوت کی اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کیا دیکھا اگلے دن پھر اس کے دروازے پے اونٹ رزق سے لدے کھڑے ہیں دوسرے دن بھی اس شخص نے سب کو دعوت پے بلایا کھانا کھلایا اب روز اونٹ رزق سے لدے آ تے وہ شخص سب کو کھا نا کھلا تا اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے اور اللّٰہ پاک سے کہا کہ تو نے تو ان کو ساری زندگی کا رزق دے دیا اور انہوں نے وہ سب بانٹ دیا دوسرے دن پھر تو نے ان کو دیا انھوں نے وہ بھی بانٹ دیا۔ اب روز اونٹ آ تے ہیں وہ لوگ روز دعوت کرتے ہیں تو اس پر اللّٰہ پاک نے فرمایا کہ آ موسیٰ علیہ السلام انھوں نے میرے ساتھ تجارت شروع کر دی ہے وہ میرے راستے میں لوگوں کو کھلا تے ہیں میں آ ن کو اور دیتا ہوں ۔
سبحان اللہ
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب اللّٰہ تعالیٰ سے ان کی بات کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ میں نے ان کی عمر بہت زیادہ لکھی ہے اور رزق بہت کم اور وہ رزق میں ان کو تھوڑا تھوڑا کرکے دیتا ہوں کہ وہ ان کی عمر کے مطابق پورا ہو جائے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عرض پے اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ صبح ان کی ساری زندگی کا رزق ان کو دے دیا جائے گا۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے واپس آ کے ساری بات ان کو بتائ تو
وہ دونوں ساری رات عبادت کرتے اور روتے رہے صبح ہوئی تو بہت سے اونٹ رزق سے لدے ان کے دروازے پر پہنچ گئے دونوں میاں بیوی نے سوچا اتنا رزق ھم کہاں لے کے جائیں گے کیوں نہ اس کا کھانا بنا کے سب کو کھلائیں ۔
صبح انھوں نے سب چیزوں کا کھانا بنایا اور بہت سے لوگوں کو کھانے پے بلایا وہ شخص حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی دعوت دینے گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت حیران ہوئے ۔
چنانچہ اس شخص نے سب کی دعوت کی اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کیا دیکھا اگلے دن پھر اس کے دروازے پے اونٹ رزق سے لدے کھڑے ہیں دوسرے دن بھی اس شخص نے سب کو دعوت پے بلایا کھانا کھلایا اب روز اونٹ رزق سے لدے آ تے وہ شخص سب کو کھا نا کھلا تا اور اللّٰہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا۔
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے اور اللّٰہ پاک سے کہا کہ تو نے تو ان کو ساری زندگی کا رزق دے دیا اور انہوں نے وہ سب بانٹ دیا دوسرے دن پھر تو نے ان کو دیا انھوں نے وہ بھی بانٹ دیا۔ اب روز اونٹ آ تے ہیں وہ لوگ روز دعوت کرتے ہیں تو اس پر اللّٰہ پاک نے فرمایا کہ آ موسیٰ علیہ السلام انھوں نے میرے ساتھ تجارت شروع کر دی ہے وہ میرے راستے میں لوگوں کو کھلا تے ہیں میں آ ن کو اور دیتا ہوں ۔
سبحان اللہ
Comments
Post a Comment