اسلام میں جنم دن منانے کا حکمइस्लाम में जन्म का जश्न मनाने का आदेशOrder to celebrate birth in Islam
اسلام میں جنم دن منانے کا حکم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے، حضرات صحابہٴ کرام وتابعین سے، ائمہ اربعہ سے، بزرگان دین سے جنم دن یا سالگرہ منانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، یہ غیرقوموں کا طریقہ ہے، ہم مسلمانوں کو غیروں کا طریقہ اپنانا جائزنہیں، نہ ہی اس موقعہ پر مبارکباد دینا درست ہے، ہمیں اسلامی طریقہ پر زندگی گذارنا چاہیے، غیروں کے طریقوں کو اختیار نہ کرنا چاہیے، قرآن کریم میں ہے: وَمَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہ
بعض گھرانوں میں بچوں کی سالگرہ منائی جاتی ہے، رشتہ داروں اور دوست احباب کو مدعو کیا جاتا ہے جو اپنے ساتھ بچے کے لئے تحفے تحائف لے کر آتے ہیں، خواتین و حضرات بلاتمیز محرَم و غیرمحرَم کے ایک ہی ہال میں کرسیوں پر براجمان ہوجاتے ہیں، یا ایک بڑی میز کے گرد کھڑے ہوجاتے ہیں، بچہ ایک بڑا سا کیک کاٹتا ہے اور پھر تالیوں کی گونج میں *”سالگرہ مبارک ہو“* کی آوازیں آتی ہیں، اور تحفے تحائف کے ساتھ ساتھ پُرتکلف چائے اور دیگر لوازمات کا دور چلتا ہے، یہ سب غیروں کی جاری کی ہوئی رسومات ہے اور مذکورہ صورت بہت سے ناجائز اُمور کا مجموعہ ہے۔
سالگرہ کی رسم میں اگر کوئی بہت ہی قریبی عزیز شرکت کی دعوت دے تو اس میں شرکت کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ فضول چیزوں میں شرکت بھی فضول ہے۔
عام حالات میں تحفہ دینا سنت ہے، لیکن سالگرہ کی بناء پر دینا بدعت ہے۔
سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لئے جو کارڈز دئیے جاتے ہیں وہ بھی اسی فضول رسم کی شاخ ہے۔
سالگرہ یعنی پیدائش سے سال بھر پورا ہونے پرتقریب اور خوشی منانا ، یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے، یہ غیروں کاطریقہ ہے اس سے پرہیزکرنا چاہئے
واضح رہے کہ سالگرہ غیر مسلموں کا طریقہ اور مغربی ثقافت کی دین ہے جس کی دین اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، نبی کریم ﷺ نے غیروں کی مشابہت سے اجتناب کا حکم دیا ہے ،سالگرہ منانا ، کیک کاٹنا ، سالگرہ کی مبارک باد دینا غیر اسلامی قوموں کے اثرات ہیں اس لیے ایسے رسم ورواج سے بچنا چاہیے.
واللہ اعلم بالغیب

Comments
Post a Comment