پسینہ مبارک سے نور
پسینہ مبارک سے نور
عنہا ایک دن چرخہ کات رہی تھیں اور آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پاپوش مبارک کو پیوند لگا رہے تھے۔ اس حسین منظر کے حوالے سے آپ رضی اللّٰہ عنہا فرماتی ہیں
_
پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک پیشانی پر پسینہ آیا، اس پسینہ کے قطروں سے نور کی شعاعیں پھوٹ رہی تھی، میں اس حسین منظر کو دیکھ کر مبہوت ہو گئی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا : عائشہ ! تجھے کیا ہوگیا؟ میں نے عرض کیا کہ آپ کی پیشانی پر پسینہ کے قطرے ہیں جن سے نور پھوٹ رہا ہے۔ اگر ابوکبیر ھذلی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اِس کیفیت کا مشاہدہ کرلیتا تو وہ جان لیتا کہ اس کے شعر کا مصداق آپ ہی ہیں۔‘‘
_
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا کی گفتگو سنی تو از رہِ استفسار فرمایا کہ ابوکبیر ھذلی نے کونسا شعر کہا ہے؟ اس پر سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللّٰہ عنہا نے یہ شعر پڑھا :
_
فإذا نظرتُ إلي أسرة وجهه
برقت کبرق العارض المتهلل
(جب میں نے اُس کے رخِ روشن کو دیکھا تو اُس کے رخساروں کی روشنی یوں چمکی جیسے برستے بادل میں بجلی کوند جائے۔)
ابن عساکر، السيرة النبويه، 3 : 174

Comments
Post a Comment