جنم دن کی مبارک باد دینا کیساजन्मदिन मुबारक कैसे?Birthday Wishes In Urdu / Hindi

جنم دن کی مبارکباد دینا کیسا


سالگرہ منانے کا شرعا کوئی ثبوت نہیں ہے بلکہ یہ دور حاضر کی گھڑی ہوئی رسم ہےنیز اس میں کفار کے ساتھ مشابہت بھی ہے،مسلمانوں نے ان کی دیکھا دیکھی اس کو اپنانا شروع کردیا لہذااس سے بچنا ضروری ہےاور اس پر خرچ کیا ہوا پیسہ *خواہ کیک کاٹنے پر خرچ ہو یا دعوت وغیرہ کے اہتمام پر*فضول خرچی میں شمار ہوگا اور ایسی مجلس میں شرکت کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے

سالگرہ کےموقع پر مبارک باد دینے کا شرعا کوئی ثبوت نہیں ہے اورتحفہ دینا اچھی بات ہے لیکن سالگرہ کی بنا پر دینا محض فضول رسم ہے جس سے بچنا چاہیے
(سوال)
 برتھ مناناا ور اگر وہ کیک کوئی لائے اس کا کهانا کیسا ہے?
 (جواب)
اسلام میں اس قسم کے رواج کا کوئی ثبوت نہیں ہے خیر القرون میں کسی صحابی تابعی تبع تابعی یا ائمہ اربعہ میں سے کسی سے مروجہ طریقہ پر سالگرہ منانا ثابت نہیں یہ رسم انگریزوں کی بنائی ہوئی ہے ان کی دیکھا دیکھی کچھ مسلمانوں میں بھی یہ رسم گھر کرچکی ہے اس لیے اس کو ضروری سمجھنا ایسی دعوت میں شرکت کرنا اور تحفے تحائف دینا فضول ہے شریعت میں اس کی قطعاً اجازت نہیں

Birthday  منانا نہ کتاب وسنت سے ثابت ہے نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور سلف صالحین رحمۃاللہ علیھم کے عمل سے شریعت نے بچوں کی پیدائش پر ساتویں دن عقیقہ رکھا ہےجوکہ مسنون ہے اور جس کا مقصد نسب کا پوری طرح اظہار اور خوشی کے اس موقع پر اپنے اعزہ و احباب اور غرباء کو شریک کرنا ہے برتھ ڈے کا رواج اصل میں مغربی تہذیب کی تیار کردہ میں سے ہے،جو حضرت عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش بھی مناتے ہیں آپ ﷺ نے دوسری قوموں کی مذہبی اور تہذیبی مماثلت اختیار کرنے کو ناپسند فرمایا ہے،اس لیے جائز نہیں▪مسلمانوں کو ایسے غیر دینی اعمال سے بچنا چاہئے{جدید فقہی مسائل} اسی طرح یومِ ولادت میں دعوت وغیرہ کااہتمام جسے Birthday  بھی کہتے ہیں
رسول اللہ ﷺ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنھما اور سلف صالحین رحمۃ اللہ علیھم سے ثابت نہیں یہ مغربی قوم سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے
چوں کہ اسے دینی عمل سمجھ کر انجام نہیں دیا جاتا اس لیے اسے بدعت تو نہیں کہ سکتے کیوں کہ بدعت کا تعلق امر دین سے ہوتا ہے لیکن غیر مسلموں سے مماثلت اور غیر اسلامی تہذیب سے تاثر اور مشابہت کی وجہ سے کراہت سے بھی خالی نہیں اس لیے احتراز کرنا چاہئے

نیزایسی دعوتوں میں شریک ہوتے وقت یہ اصول یاد رکھنا چاہیے کہ فضول چیزوں میں شرکت بھی فضول ہے
جب جنم دن کی خوشی ہی فضول ہے کہ انسان کی عمر حقیقت میں اس دنیامیں بڑھتی نہیں بلکہ گھٹتی ہےاس میں شرکت بھی معنی ہے
اگر کوئی ان تقریبات میں شرکت نہ کرے اور وہ خود جس کا جنم دن ہو آکر کیک وغیرہ لاکر دے تو ان کے کھانے کے متعلق حکم یہ ہوگا کہ اگر اس فضول رسم میں شرکت مطلوب ہو تو کھا لیا جائے ورنہ انکار کر دیا جائے
ایسے موقعوں پر جنہیں انکار کرنا عجیب لگتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ دل و دماغ میں انگریزی سوچ رچ بس گئی ہے۔
ایسے موقعوں کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے تحفے تحائف لینا دینا بھی درست نہیں۔
واللہ اعلم بالغیب

Comments

Popular posts from this blog

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دودھ کا پیالہ

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم

یاجوج ماجوج کیا ھیں؟? What Is Yajooj Majooj