اصل ہیرو ایسے ہوتے ہیں
• 👈 *اصل_ہیرو_ایسے_ھوتے_ہیں* 👉
حضرت عمربن الخطاب رضی ﷲ عنہ نے روم سے لڑنے کے لیے ایک فوجی دستہ روانہ کیا،
اس دستے میں ایک نوجوان صحابی عبد ﷲ بن حذافہ بن قیس السھمی رضی ﷲ عنہ بھی تھے۔
مسلمانوں اور قیصر کی فوج کے درمیان لڑائی نے طول پکڑ لیا،
قیصر مسلمانوں کی بہادر اور ثابت قدمی پر حیران ہوا اور حکم دیا کہ مسلمانوں کا کوئی جنگی قیدی ہو تو حاضر کیا جائے۔
عبدﷲ بن حذافہ کو لا کر حاضر کیا گیا
جن کے ہاتھوں اور پاوں میں ہتھکڑیاں تھی،
قیصر نے ان سے بات چیت شروع کی تو ان کی ذہانت سے حیران رہ گیا،
دونوں کے درمیان یہ مکالمہ ہوا:-
قیصر: نصرانیت قبول کر لے تمہیں رہا کر دوگا۔
عبدﷲ: نہیں قبول کروں گا۔
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت تمہیں دے دوں گا
عبدﷲ: نہیں
قیصر: نصرانیت قبول کر لے آدھی سلطنت دوں گا اور تمہیں حکمرانی میں شریک کروں گا
عبدﷲ: نہیں، ﷲ کی قسم اگر تم مجھے اپنی پوری مملکت، اپنے آباواجداد کی مملکت،عرب وعجم کی حکومتیں بھی دے دو تو میں پلک جھپکنے کے برابر بھی اپنے دین سے منہ نہیں موڑوں گا۔
قیصر غضبناک ہوا اور کہا : تجھے قتل کر دوں گا،
عبدﷲ: مجھے قتل کردے۔
قیصر نے حکم دیا کہ ان کو ایک ستون پر لٹکا کر ان کے آس پاس تیروں کی بارش کی جائے (ڈرانے کے لیے) پھر اس کو عیسائیت قبول کرنے یا موت کو گلے لگانے میں سے ایک بات کا اختیار دیا جائے۔
جب قیصر نے دیکھا کہ اس سے بھی بات نہیں بنی اور وہ کسی حال میں بھی اسلام چھوڑنے کے لیے تیار نہیں تو حکم دیا کہ اسکو قید میں ڈال دو اور کھانا پینا بند کر دو ۔۔۔
عبدﷲ کو کھانا پینا نہیں دیا گیا یہاں تک کہ پیاس اور بھوک سے موت کے قریب ہو گئے تو قیصر کے حکم سے شراب اور خنزیر کا گوشت ان کے سامنے پیش کیا گیا۔۔۔
جب عبدﷲ نے یہ دیکھا تو کہا :
ﷲ کی قسم مجھے معلوم ہے کہ میں وہ مضطر ( پریشان حال) ہوں جس کے لیے یہ حلال ہے،
مگر میں کفار کو خوش کرنا نہیں چاہتا،
یہ کہہ کر کھانے کو ہاتھ بھی نہ لگایا۔
یہ بات قیصر کو بتائی گئی تو اس نے عبدﷲ کے لیے بہترین کھانا لانے کا حکم دیا ،
اس کے بعد ایک حسین و جمیل لڑکی کو ان کے پاس بھیجا گیا کہ ان کو چھیڑے اور فحاشی کا مظاہر ہ کرے۔۔۔
اس لڑکی نے بہت کوشش کی مگر عبدﷲ نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی
اور ﷲ کے ذکر میں مشغول رہے۔۔۔
جب لڑکی نے یہ دیکھا تو غصے سے باہر چلی آئی اور کہا :
تم نے مجھے کیسے آدمی کے پاس بھیجا میں سمجھ نہ سکی کہ وہ انسان ہے یا پتھر۔۔۔
ﷲ کی قسم اس کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ میں مذکر ہوں یا مونث!!
جب قیصر کا ہر حربہ ناکام ہوا اور وہ عبدﷲ کےبارے میں مایوس ہوا تو ایک پیتل کی دیگ منگوائی اور اس میں تیل ڈال کر خوب گرم کیا اور عبدﷲ کو اس دیگ کے سامنے لایا اور ایک دوسرے مسلمان قیدی کو زنجیروں سے باندھ کر لایا گیا اور ان کو اٹھا کر اس ابلتے تیل میں ڈالا گیا جن کی ایک چیخ نکلی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کی ہڈیاں الگ ہو گئیں اور تیل کے اوپر تیرنے لگی،
عبدﷲ یہ سارا منظر دیکھ رہے تھے،
اب ایک بار پھر قیصر عبدﷲ کی طرف متوجہ ہوا اور نصرانیت قبول کرنے اور اسلام چھوڑنے کی پیش کش کر دی مگر عبدﷲ نے انکار کر دیا۔
قیصر غصے سے پاگل ہو نے لگا اور حکم دیا کہ اس دیگ میں موجود تیل اٹھا کر عبدﷲ کے سر پر ڈال دیا جائے،
جب قیصر کے کارندوں نے دیگ کھینچ کر عبدﷲ کے قریب کی اور اس کی تپش کو عبدﷲ نے محسوس کیا تو انکی آنکھوں سے آنسو نکل آئے!!
آپ کی ان خوش نصیب آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے جن آنکھوں نے رسولﷲ ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تھا!!
یہ دیکھ کر قیصر خوشی سے جھومنے لگا اور کہا :
عیسائی بن جاو معاف کر دوں گا۔
عبدﷲ نے کہا : نہیں
قیصر: تو پھر رویا کیوں ؟
عبدﷲ :ﷲ کی قسم میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میری ایک ہی جان ہے جو اس دیگ میں ڈالی جائے گی ۔۔۔
میری یہ تمنا ہے کہ میری میرے سر کے بالوں کے برابر جانیں ہوں اور وہ ایک ایک کر کے ﷲ کی راہ میں نکلیں۔۔۔
یہ سن کر قیصر نے مایوسی کے عالم میں عبدﷲ سے کہا:
کیا یہ ممکن ہے کہ تم میرے سر کو بوسہ دو اور میں تمہیں رہا کروں؟
عبدﷲ: اگر میرے ساتھ تمام مسلمان قیدیوں کو رہا کر تے ہو تو میں تیرے سر کو بوسہ دینے کے لیے تیار ہوں۔
قیصر : ٹھیک ہے۔
عبدﷲ نے اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو رہا کرنے کے لیے اس کافر کے سر کو بوسہ دیا اور سارے مسلمان رہا کر دیے گئے۔
جب واپس عمر بن الخطاب کے پاس پہنچ گئے اور آپ کو واقعہ بتایا گیا تو عمر رضی ﷲ عنہ نے کہا :
عبدﷲ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دینا ہر مسلمان پر ان کا حق ہے اور خود اٹھے اور عبدﷲ کے سر کو بوسہ دیا ۔
رضی ﷲ عنھم,
• _(حیات_اصحابہ)_
ہماری اولادیں یہ تو جانتی ھیں کہ سپرمین، آئرن مین، بیٹ مین یہ ہیرو ہیں جو کہ خیالی ہیں
اور اصل ہیرو کون اور کیسے ھوتے ہیں یہ نہیں علم۔
ﷲ سب کو علم دین سیکھنے اور سکھانے کی توفیق عطا کرے....
آمین یا رب العالمین
Comments
Post a Comment