Posts

انوکھی دعوت

Image
ایک خوبصورت واقعہ پڑھیے گا ضرور!!! اﯾﮏ ﺩﻥ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﯽ ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﮔِﻦ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺮﮐﺎﺭِ ﺩﻭ ﻋﺎﻟﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺟﺐ ﻣﻨﮧ ﻣﻮﮌ ﮐﺮ ﯾﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﭘﻮﭼﮭﺎ : '' ﺍﮮ ﻋﺜﻤﺎﻥ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﮐﯿﺎ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ؟ '' ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ : '' ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﷺ ﮐﮯ ﻗﺪﻡ ﮔِﻦ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮﻭﮞ۔ '' ﺩﻋﻮﺕ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﻏﻨﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮨﯽ ﮐِﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺗﻨﮯ ﮨﯽ ﻏﻼﻡ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﯿﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﺍِﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﺳﮯ ﻣﺘﺎﺛﺮ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﺁ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮩﺎ ﺳﮯ ﺍﺱ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﺎ ﺫِﮐﺮ ﮐِﯿﺎ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍﺀ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : '' ﻋﻠﯽ ( ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ) ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭨﮭﯿﮏ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّﮧ ﷺ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﻮ ﺑُﻼﺅ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻋﻮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﭘﮑﺎ ﻟﻮﮞ۔ '' ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻨﮧُ ﮐﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺣﻀﺮﺕ ﺣ...

سخی گھرانہ

Image
ایک دن نماز عصر کے بعد رسول خدا ﷺ،اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک بوڑھا، بوسیدہ کپڑا پہنے ہوئے کمزوری کی حالت میں وارد ہوااس کے آثار سے لگ رہا تھا کہ وہ بھوک کی حالت میں کافی طولانی راستہ طے کر کے آیا ہے۔اس نے عرض کیا:میں ایک پریشان حال انسان ہوں آپ مجھے بھوک،عریانی اور مشکلات سے نجات دلائیے۔رسول خدا نے فرمایا: فی الحال میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن میں تجھے ایک ایسے شخص کی رہنمائی کرتا ہوں جو تیری حاجتوں کو پورا کردے گا اور نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا اس شخص کے مانندکہ جس نے خوداس کام کو انجام دیاہو۔اس کے بعدآنحضرت ﷺنے جناب بلالؓ کو حکم دیا کہ اس بوڑھے کو درِ فاطمہؓ پر لے جائیں۔جب وہ بوڑھا حضرت علیؓ کے بیت الشرف پرپہنچا تو اس نے اس طرح سلام کیا: ’’السلام علیکم یا اہل بیت النبوۃ‘‘اے خاندان نبوت آپ پر سلام ہو۔آپ نے سلام کا جواب دیااوردریافت فرمایا: تم کون ہو؟اس نے کہا: میں ایک مرد عرب ہوں ،رسول خدا ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا تھا اور ان سے مدد کا تقاضا کیا تھا۔انہوں نےمجھےآپؓ کے دروازہ پربھیج دیا۔وہ تیسرادن تھاجسے حضرت علیؓ بھوک کی حالت میں گزاررہےتھےاوررسول خدا ﷺبھی اس سےآگاہ تھے،بنت رسول...

تلاوتِ قرآن کریم

Image
تلاوت قرآن: ایک پہاڑی علاقے میں ایک بزرگ اپنے نوجوان پوتے کے ساتھ رہتے تھے۔ وہ ہر روز صبح سویرے قرآن کی تلاوت کیا کرتے۔ پوتا بھی ہمیشہ ان جیسا بننے کی کوشش کرتا۔ ایک دن پوتا کہنے لگا: دادا جان! میں بھی آپ کی طرح قرآن پاک پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، لیکن مجھے سمجھ نہیں آتی۔ اور جو سمجھ آئے، جیسے ہی قرآن بند کروں، بھول جاتا ہوں۔ ایسے میں قرآن پڑھنے سے ہم کیا سیکھتے ہیں؟ دادا جی نے خاموشی سے کوئلوں والی ٹوکری میں سے کوئلے نکال کر انگیٹھی میں ڈالے۔ پھر ٹوکری پوتے کو دے کر کہا: جا پہاڑ کے نیچے بہتی ندی سے مجھے پانی کی ٹوکری بھر کر لا دے. لڑکے نے دادا جی کی بات پر عمل کیا. لیکن واپس پہنچنے تک سارا پانی ٹوکری کے سوراخوں میں سے بہہ گیا۔ دادا جی مسکرائے اور کہا: تم اس دفعہ اور زیادہ تیز قدم اٹھانا. یہ کہہ کر پوتے کو واپس بھیج دیا. لیکن اس بار وہ بالٹی میں پانی لے آیا۔ دادا جی نے کہا: مجھے بالٹی نہیں ٹوکری میں پانی چاہیے۔ تم ٹھیک سے کوشش نہیں کر رہے. اسے پھر نیچے بھیج کر وہ دروازے میں کھڑے دیکھنے لگے کہ پوتا کتنی سعی کرتا ہے۔ لڑکے کو علم تھا کہ سوراخوں بھری ٹوکری میں پانی بھرنا نا...

آتش پرست مسلمان ہو گیا

Image
ﺷﻤﻌﻮﻥ ﻧﺎﻣﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﺎ ﮨﻤﺴﺎﯾﮧ ﺗﻬﺎ - . ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﻗﺮﯾﺐ ﺁﯾﺎ ﺗﻮ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺣﺴﻦ ﺑﺼﺮﯼ ﺭﺣﻤﺔ ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﭘﮩﻨﭽﮯ . ' ﺁﭖ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﻬﺎ ﮐﮧ ﺁﮒ ﮐﮧ ﺩﻫﻮﺋﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﺳﯿﺎﮦ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ - ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ . ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﻮﻧﮯ ﺁﮒ ﺍﻭﺭ ﺩﻫﻮﺋﯿﮟ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﯽ ﮨﮯ . ﺁﺧﺮﯼ ﻭﻗﺖ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﮈﺭﻭ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮ ﻟﻮ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽتجھ ﭘﺮ ﺭﺣﻢ ﮐﺮﮮ - ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺍﺳﻼﻡ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﯿﻦ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﻣﺎﻧﻊ ﮨﯿﮟ - ‏( . 1 ‏) ﺗﻢ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﭘﻬﺮ ﺑﻬﯽ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺍﺳﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻃﻠﺐ ﻣﯿﮟ ﻣﺸﻐﻮﻝ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﻮ - ‏( . 2 ‏) ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﺑﺮﺣﻖ ﺳﻤﺠﻬﺘﮯ ﮨﻮ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ - ‏( . 3 ‏) ﯾﮧ ﺳﻤﺠﺘﻬﮯ ﻫﻮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﮐﺎ ﺩﯾﺪﺍﺭ ﻣﯿﺴﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﮐﺎﻡ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﺿﺎ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮ - ‏( ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺁﺷﻨﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻧﺸﺎﻧﯽ ﮨﮯ - ﺍﮔﺮ ﻣﻮﻣﻦ ﻟﻮﮒ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺗﻢ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮ؟ - ﺳﺎﺭﯼ ﻋﻤﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺘﯽ ﻣﯿﮟ ﮔﺰﺍﺭ ﺩﯼ ﮨﮯ . ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺁﮒ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ - ﺍﮔﺮ ﺫﺭﺍ ﺁﮒ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﺗﻮ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻼ ﺩﮮ ﮔﯽ . . ﺍﻭﺭ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ 70 ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﭘﻮﺟﺎ ﮐﺎ ﺫﺭﺍ ﺑﻬﯽ ﺧﯿﺎﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ...

حضرت بلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عشق رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلّم

Image
ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ ﺣﺒﺸﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺑﮩﺖ ﻋﺮﺻﮧ ﺗﮏ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﻘﯿﻢ ﺭﮨﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ :‘ ﺑﻼﻝ ! ﮨﻢ ﺳﮯ ﻣﻠﻨﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ۔۔؟ "’’ ﺑﻼﻝؓ ! ﮐﯿﺎ ﺍﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺍٓﯾﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺗﻢ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍٓؤ ؟ ‘ ﺍﺱ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝؓ ﮐﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺯﺧﻢ ﮨﺮﮮ ﮐﺮ ﺩﺋﯿﮯ ﺍٓﭖ ﺑﯿﺘﺎﺏ ﮨﻮ ﮐﺮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻞ ﭘﮍﮮ۔ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﻨﻮﺭﮦ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺗﻮ ﺭﻭﺿﮧ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﷺ ﭘﺮ ﺩﮬﺎﮌﯾﮟ ﻣﺎﺭ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﻭﺗﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻨﯿﻦ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮩﻤﺎ ﮐﻮ ﭼﻤﭩﺎ ﭼﻤﭩﺎ ﮐﺮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ۔ ﺍﮨﻞِ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ، " ﺍﮮ ﺑﻼﻝ ! ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﮭﺮ ﻭﮨﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﺳﻨﺎ ﺩﯾﮟ، ﺳﺮﮐﺎﺭﷺ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ۔۔؟ " ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﻧﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﯽ ﮐﮧ، " ﺍﺏ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺑﺮﺩﺍﺷﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﮔﺎ۔۔ !" ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺴﻨﯿﻦ ﮐﺮﯾﻤﯿﻦ ﺳﮯ ﮐﮩﻠﻮﺍﯾﺎ، ﺍﺏ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ۔۔ !! ﺣﻀﺮﺕ ﺣﺴﻨﯿﻦؓ ﻧﮯ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﮐﻞ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﺍﺫﺍﻥ ﺍٓﭖ ﺩﯾﮟ، ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝؓ ﺍُﻥ ﺳﮯ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﻧﮧ ﭨﺎﻝ ﺳﮑﮯ۔ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ ﺳﻦ ﮐﺮ ﮐﮧ ﺑﻼﻝؓ ﺍٓﺝ ﭘﮭﺮ ﺍﺫﺍﻥ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ، ﺳﺎﺭﺍ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺍُﻣﮉﺍٓﯾﺎ … ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍٓﺧﺮﯼ آﺫﺍﻥ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝؓ ﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﻮ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺑﭙﺎ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐ...

محمد ہمارے بڑی شان والے

Image
وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ "میری بیویوں کو جمع کرو۔" تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔ تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: "کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟" سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔ پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟ چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔ آنحضرت صلی اللہ ع...

بڑھیا کی عروج سے زوال کی درد بھری کہانی

Image
بڑھیا کی عروج سے زوال کی درد بھری کہانی قاضی کوفہ محمد بن غسان علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ'' عیدِ قربان کے دن میں اپنی والدہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے وہاں پھٹے پرانے بوسیدہ کپڑے پہنے ہوئے ایک بڑھیا کو دیکھا۔ مجھے اس کا اندازِ گفتگو بہت اچھا لگا۔ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا: ''یہ عورت کون ہے؟'' فرمایا؛ ''یہ تمہاری خالہ عانیہ ہے جو ہارون رشید کے وزیر جعفر بن یحیٰ کی ماں ہے۔'' میں نے انہیں سلام کیا، ان کی خیریت دریافت کی پھر پوچھا کہ ''آپ کی یہ حالت کیسے ہوئی؟'' تو انہوں نے فرمایا: '' بیٹا ہم نے غفلت میں زندگی گزاری اور وقت ضائع کرنے میں لگے رہے تو زمانہ ہم سے روٹھ گیا۔'' میں نے کہا: ''اپنی شان وشوکت کا کوئی واقعہ سنائيے۔'' کہنے لگیں: ''ضرور، ایک چھوٹا سا واقعہ سناتی ہوں اس سے میری شان وشوکت کا اندازہ لگا لینا، آج سے تین سال پہلے عیدِ قربان کے موقع پر میرے پاس چار سو اوڑھنیاں تھیں۔ میرے بیٹے نے رسم کے طور پر میرے پاس ایک ہزار چار سو بکروں کے سر اور تین سو بیلوں کے سر بھیجے، زیورات اور ل...